حصول رزق کے ارماں نکالتے گزری
غزل حصول رزق کے ارماں نکالتے گزری حیات ریت سے سکے ہی ڈھالتے گزری مسافرت کی صعوبت میں عمر بیت گئی بچی تو پاؤں سے کانٹے نکالتے گزری ہوا نے جشن منائے وہ انتظار کی رات چراغ حجرۂ فرقت سنبھالتے گزری وہ تیز لہر تو ہاتھوں سے لے گئی کشتی پھر اس کے بعد سمندر […]
حصول رزق کے ارماں نکالتے گزری Read More »