MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

حصول رزق کے ارماں نکالتے گزری

غزل حصول رزق کے ارماں نکالتے گزری حیات ریت سے سکے ہی ڈھالتے گزری مسافرت کی صعوبت میں عمر بیت گئی بچی تو پاؤں سے کانٹے نکالتے گزری ہوا نے جشن منائے وہ انتظار کی رات چراغ حجرۂ فرقت سنبھالتے گزری وہ تیز لہر تو ہاتھوں سے لے گئی کشتی پھر اس کے بعد سمندر […]

حصول رزق کے ارماں نکالتے گزری Read More »

مقتل کی بازدید

مقتل کی بازدید بلا کی پیاس اس کی آنکھ میں ہے حجاز کی سرزمیں پہ اس سال اس قدر بارشیں ہوئی ہیں کہ خشک تالاب خون ناحق سے بھر گئے ہیں لہو کی پیاس اس کی آنکھ میں ہے نفس میں بارود جس کی قاتل صدا کا شعلہ قدم قدم تہنیت کے رستے رواں ہوا

مقتل کی بازدید Read More »

امتناع کا مہینہ

امتناع کا مہینہ اس مہینے میں غارتگری منع تھی، پیڑ کٹتے نہ تھے تیر بکتے نہ تھے بے خطر تھی زمیں مستقر کے لیے اس مہینے میں غارتگری منع تھی، یہ پرانے صحیفوں میں مذکور ہے قاتلوں، رہزنوں میں یہ دستور تھا، اس مہینوں کی حرمت کے اعزاز میں دوش پر گردن خم سلامت رہے

امتناع کا مہینہ Read More »

نظم اسکول

نظم اسکول اجلی دھوپ ہے فرش گیہ پر اجلی دھوپ میں فرش گیہ پر روشن اور درخشاں لمحوں کی شبنم ہے سبز درختوں میں خنداں چہروں کی چاندی ہے سونا ہے ان لمحوں سے ان پھولوں سے سبز درختوں کے پتوں سے جز دانوں کی جیبیں بھر لو کل جب سورج زیست کی چھت پر

نظم اسکول Read More »

جہاں دریا اترتا ہے

جہاں دریا اترتا ہے سرشک خوں رخ مضمون پہ چلتا ہے تو اک رستہ نکلتا ہے ندی دریا پہ تھم جائے لہو نقطے پہ جم جائے تو عنوان سفر ٹھہرے اسی رستے پہ سرکش روشنی تاروں میں ڈھلتی ہے اسی نقطے کی سولی پر پیمبر بات کرتے ہیں مجھے چلنا نہیں آتا شب ساکن کی

جہاں دریا اترتا ہے Read More »

میں غیر محفوظ رات سے ڈرتا ہوں

میں غیر محفوظ رات سے ڈرتا ہوں رات کے فرش پر موت کی آہٹیں پھر کوئی در کھلا کون اس گھر کے پہرے پہ مامور تھا کس کے بالوں کی لٹ کس کے کانوں کے در کس کے ہاتھوں کا زر، سرخ دہلیز پر قاصدوں کو ملا؟ کوئی پہرے پہ ہو تو گواہی ملے یہ

میں غیر محفوظ رات سے ڈرتا ہوں Read More »

نظم شام ڈھلے تو

نظم شام ڈھلے تو میلوں پھیلی خوشبو خوشبو گھاس میں رستے آپ بھٹکنے لگتے ہیں زلف کھلے تو مانگ کا صندل شوق طلب میں آپ سلگنے لگتا ہے شام ڈھلے تو زلف کھلے تو لفظوں ان رستوں پر جگنو بن کر اڑنا راہ دکھانا دن نکلے تو تازہ دھوپ کی چمکیلی پوشاک پہن کر میرے

نظم شام ڈھلے تو Read More »

ایذرا پاؤنڈ کی موت پر

ایذرا پاؤنڈ کی موت پر   تجھ کو کس پھول کا کفن ہم دیں تو جدا ایسے موسموں میں ہوا جب درختوں کے ہاتھ خالی ہیں انتظار بہار بھی کرتے دامن چاک سے اگر اپنے کوئی پیمان پھول کا ہوتا آ تجھے تیرے سبز لفظوں میں دفن کر دیں کہ تیرے فن جیسی دہر میں

ایذرا پاؤنڈ کی موت پر Read More »

نومبر کے پہلے ہفتے پر ایک نظم   

نومبر کے پہلے ہفتے پر ایک نظم خنک ہوا کا برہنہ ہاتھوں سے زرد ماتھے سے پہلا پہلا مکالمہ ہے ابھی یہ دن رات سرد مہری کے اتنے خوگر نہیں ہوئے ہیں تو پھر یہ بے وزن صبح کیوں بوجھ بن رہی ہے سواد آغاز‌‌ خشک سالی میں کیوں ورق بھیگنے لگا ہے دھواں دھواں

نومبر کے پہلے ہفتے پر ایک نظم    Read More »

تپش گلزار تک پہنچی لہو دیوار تک آیا

غزل تپش گلزار تک پہنچی لہو دیوار تک آیا چراغ خود کلامی کا دھواں بازار تک آیا ہوا کاغذ مصور ایک پیغام زبانی سے سخن تصویر تک پہنچا ہنر پرکار تک آیا عبث تاریک رستے کو تہ خورشید جاں رکھا یہی تار نفس آزار سے پیکار تک آیا محبت کا بھنور اپنا شکایت کی جہت

تپش گلزار تک پہنچی لہو دیوار تک آیا Read More »