MOJ E SUKHAN

جہاں دریا اترتا ہے

جہاں دریا اترتا ہے

سرشک خوں رخ مضمون پہ چلتا ہے تو اک رستہ
نکلتا ہے

ندی دریا پہ تھم جائے
لہو نقطے پہ جم جائے تو عنوان سفر ٹھہرے

اسی رستے پہ سرکش روشنی تاروں میں ڈھلتی ہے
اسی نقطے کی سولی پر پیمبر بات کرتے ہیں

مجھے چلنا نہیں آتا
شب ساکن کی خانہ زاد تصویرو گواہی دو

فصیل صبح ممکن پر مجھے چلنا نہیں آتا
مرے چشموں میں شور آب یکجا بر شکالی ہے

ندی مقروض بادل کی
مرا دریا سوالی ہے

رگ حرف زبوں میں جو چراغ خوں سفر میں ہے
ابھی اس نقطۂ آخر کے زینے تک نہیں آتا

جہاں جلاد کا گھر ہے
جہاں دیوار صبح ذات کے رخنے سے نگہ خشمگیں

بارود کی چشمک ڈراتی ہے
جہاں سولی کے منبر پر پیمبر بات کرتے ہیں

2
اب ان باتوں کے سکے جیب کے اندر کھنکتے ہیں کہ جن پر

قصر شاہی کے مناظر
اسلحہ خانوں سے جاری حکم کندہ ہیں

بھرے بازار میں طفل تہی کیسہ پریشاں ہے کہ اس کے پاؤں
ٹکسالوں کے رستے سے ابھی نا آشنا ہیں

اور اس کا باپ گونگا ہے
ندی رک رک کے چلتی ہے

تکلم رہن رکھنے سے سفر آساں نہیں ہوتا
ہوا پسپا جہاں پانی

جہاں موجوں نے زنجیر وفا پہنی سپر گرداب کی رکھ دی
علم رکھے قلم رکھے

خفا بادل نے جن پایاب دریاؤں سے منہ موڑا
جہاں تاراج ہے کھیتی

جہاں قریہ اجڑتا ہے
طناب راہ کٹتی ہے کہیں خیمہ اکھڑتا ہے

وہاں سے دور ہے ندی
وہاں سے دور ہے بچہ کہ اس کے پاؤں

دریاؤں کے رستے سے ابھی نا آشنا ہیں
اور اس کا باپ گونگا ہے

اسے چلنا نہیں آتا
فصیل صبح ممکن پر اسے چلنا نہیں آتا

3
سحر کے پاس ہیں منسوخ شرطیں صلح‌ نامے کی

صبا درس‌ زیاں آموز کی تفصیل رکھتی ہے
کسی تمثیل میں تم ہو

کسی اجمال میں میں ہوں
کہیں قرطاس خالی کا وہ بے عنوان ساحل ہے

جہاں آشفتگان عدل نے ہتھیار ڈالے ہیں
بہت ذاتیں ہیں صدموں کی

کئی حصے ہیں سینے میں نفس گم کردہ لمحے کے
کئی طبقات ہیں دن کے

کہیں صبح مکافات سخن کے منطقے میں تم مقید ہو
کسی پچھلے پہر کے صلح‌ نامے کی عدالت میں

کڑی شرطوں پر اپنے دستخط کے روبرو میں ہوں
سنو قرطاس خالی کے سپر انداز ساحل سے

ہوا کیا بات کہتی ہے
ادھر اس دوسرے ساحل سے جو ملاح آیا ہے

زمینیں بیچتی بستی سے کیا پیغام لایا ہے
کوئی تعزیر کی دھمکی

کوئی وعدہ رہائی کا
کوئی آنسو

کوئی چھٹی

اختر حسین جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم