MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تپش گلزار تک پہنچی لہو دیوار تک آیا

غزل

تپش گلزار تک پہنچی لہو دیوار تک آیا
چراغ خود کلامی کا دھواں بازار تک آیا

ہوا کاغذ مصور ایک پیغام زبانی سے
سخن تصویر تک پہنچا ہنر پرکار تک آیا

عبث تاریک رستے کو تہ خورشید جاں رکھا
یہی تار نفس آزار سے پیکار تک آیا

محبت کا بھنور اپنا شکایت کی جہت اپنی
وہ محور دوسرا تھا جو مرے پندار تک آیا

عجب چہرہ سفر کا تھا ہوس کے زرد پانی میں
قدم دلدل سے نکلا تو خط رفتار تک آیا

پھر اس کے بعد طبنور و علم نا معتبر ٹھہرے
کوئی قاصد نہ اس شام شکست آثار تک آیا

اختر حسین جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم