MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دل ہے وابستہ مرا حسرت ناکام کے ساتھ

غزل

دل ہے وابستہ مرا حسرت ناکام کے ساتھ
تازہ ہو جاتے ہیں سب زخم ترے نام کے ساتھ

اس نے ہر حلق تمنا پہ چلایا خنجر
یوں ہے پیکار مری گردش ایام کے ساتھ

درد الفت مرا کرتا ہے ترنم ریزی
کرنیں رو رو کے گلے ملتی ہیں جب شام کے ساتھ

سنگ بن جاتا اگر میں بھی برائے عشرت
زندگی پھر تو گزرتی بڑے آرام کے ساتھ

ہر جہت سے رہا دنیا میں سراسر ناکام
جی رہا ہوں میں خوشی سے اسی الزام کے ساتھ

راہیٔ زیست اگر عزم سفر ہے پرجوش
پھر تو وابستہ ہے منزل ترے ہر گام کے ساتھ

یہ بنا دیتا ہے انساں کو مکمل پتھر
یوں رہی دہر میں نفرت مجھے آرام کے ساتھ

آتش غم نے تپا کر کیا کندن مجھ کو
اسی باعث تو جلیؔ عشق ہے آلام کے ساتھ

جلی امرہوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم