MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دونوں عالم سے عیاں تھا مجھے معلوم نہ تھا

غزل

دونوں عالم سے عیاں تھا مجھے معلوم نہ تھا
تو ہی تو جلوہ کناں تھا مجھے معلوم نہ تھا

قلب مضطر میں مرے مہر و وفا کی صورت
نور کا ایک جہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا

درد‌ کونین اٹھا رکھا تھا اللہ اللہ
دل مرا کتنا جواں تھا مجھے معلوم نہ تھا

تو مری محفل افکار سجانے کے لیے
روح میں نور فشاں تھا مجھے معلوم نہ تھا

زینت فرش رہا یا سر قوسین رہا
تیرا محبوب کہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا

جو بہا فرط ندامت سے حضوری میں تری
کتنا وہ اشک گراں تھا مجھے معلوم نہ تھا

لالہ و گل میں فضاؤں میں مہ و انجم میں
تیرا ہی نور نہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا

باغ ہستی میں جلا میرا وجود ہستی
صورت فصل خزاں تھا مجھے معلوم نہ تھا

جلی امرہوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم