MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہم بھی کیا زندگی گزار گئے

غزل

ہم بھی کیا زندگی گزار گئے
قرض جیسے کوئی اتار گئے

جن سے پھولوں کی تھی مجھے امید
وہ بھی دامن میں بھر کے خار گئے

بے وجہ بھی کسی کے کوچے میں
ہم گئے اور بار بار گئے

یارو ہم تو تمہاری دنیا میں
بے سکوں آئے بے قرار گئے

بعض ہمدرد تلخ گوئی سے
دل میں خنجر سا اک اتار گئے

لمحے خوشیوں کے بھی ملے لیکن
غم کو کچھ اور بھی نکھار گئے

روٹھ کر کیا گئے وہ اے ہاتفؔ
جیتے جی جیسے مجھ کو مار گئے

ہاتف ارفی فتح پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم