MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کتنی دفعہ نہ جانے دی دستک

غزل

کتنی دفعہ نہ جانے دی دستک
آخری بار تیسری دستک

پٹریوں میں پھنسا ہوا پاؤں
اور گاڑی کی آ پڑی دستک

تم نے چھپنے ہی کب دیا مجھ کو
تم نے گنتی نہیں گنی دس تک

سچ میں آنے پہ ہو تم آمادہ
دی گئی ہے کہ ہو گئی دستک

گول کی گول ہی رہی دنیا
پھر وہی در ہے پھر وہی دستک

تینوں دشمن ہیں میرے خوابوں کے
یہ مرے دوست آگہی دستک

پارس مزاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم