MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تجھے خلق کہتی ہے خود نما تجھے ہم سے کیوں یہ حجاب ہے

غزل

تجھے خلق کہتی ہے خود نما تجھے ہم سے کیوں یہ حجاب ہے
ترا جلوہ تیرا ہے پردہ در تیرے رخ پہ کیوں یہ نقاب ہے

تجھے حسن مایۂ ناز ہے دل خستہ محو نیاز ہے
کہوں کیا یہ قصۂ راز ہے مرا عشق خانہ خراب ہے

یہ رسالہ عشق کا ہے ادق ترے غور کرنے کا ہے سبق
کبھی دیکھ اس کو ورق ورق مرا سینہ غم کی کتاب ہے

تری جذب میں ہے ربودگی تیرے سکر میں ہے غنودگی
نہ خبر شہود و وجود کی نہ ترنگ موج سراب ہے

یہ وہی ہے ساقیؔٔ شیفتہ جو ہے دل سے تیرا فریفتہ
یہ ہے تیرا بندہ گریختہ کہ جو خاکسار تراب ہے

پنڈت جواہر ناتھ ساقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم