MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وقت کے ساتھ نئی سوچ میں ڈھل جاتے ہیں

غزل

وقت کے ساتھ نئی سوچ میں ڈھل جاتے ہیں
ہم وہ سکے ہیں جو ہر دور میں چل جاتے ہیں

اتنے مانوس ہوئے مجھ سے مرے گھر کے چراغ
شام ہوتے ہی مجھے دیکھ کے جل جاتے ہیں

دیکھ لیتا ہوں جو کچھ دیر تری آنکھوں کو
تیری آنکھوں سے مرے خواب بدل جاتے ہیں

اک تکلف میں لحافوں کا سہارا لے کر
آستینوں میں چھپے سانپ بھی پل جاتے ہیں

وقت کب ہاتھ سے جاتا ہے کسی کے ساحرؔ
وقت کے ہاتھ سے ہم لوگ نکل جاتے ہیں

جہانزیب ساحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم