MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ویسے تو کم ہی میاں اہل جنوں روتے ہیں

غزل ویسے تو کم ہی میاں اہل جنوں روتے ہیں دیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ خوں روتے ہیں پوچھنے والے بضد ہیں کہ بتایا جائے رونے والوں کو نہیں یاد کہ کیوں روتے ہیں مجھ سے مت پوچھ کہ تفریق نہیں کر سکتا میں تو ہنستے ہوئے لوگوں کو کہوں روتے ہیں وہ بہت خوش […]

ویسے تو کم ہی میاں اہل جنوں روتے ہیں Read More »

فقیر موجی خراب حالوں کا کیا بنے گا

غزل فقیر موجی خراب حالوں کا کیا بنے گا یہ عشق کرتی اداس نسلوں کا کیا بنے گا ہمارے پرکھوں نے ہم سے بہتر گزار لی ہے میں سوچتا ہوں ہمارے بچوں کا کیا بنے گا ہمارے جسموں کا خاک ہونا تو ٹھیک ہے پر تمہاری آنکھوں تمہارے ہونٹوں کا کیا بنے گا ہمیں تو

فقیر موجی خراب حالوں کا کیا بنے گا Read More »

نیند سے مجھ کو جگاتا ہے چلا جاتا ہے

غزل نیند سے مجھ کو جگاتا ہے چلا جاتا ہے وہ مرے خواب میں آتا ہے چلا جاتا ہے اور میں ٹیک ہٹاتا نہیں دروازے سے عشق آواز لگاتا ہے چلا جاتا ہے چھیڑ وہ راگ لہو آنکھ سے نکلے دل کا تو بھی کیا گیت سناتا ہے چلا جاتا ہے میرا کردار کہانی میں

نیند سے مجھ کو جگاتا ہے چلا جاتا ہے Read More »

افتاد طبیعت سے اس حال کو ہم پہنچے

غزل افتاد طبیعت سے اس حال کو ہم پہنچے شدت کی محبت میں شدت ہی کے غم پہنچے احوال بتائیں کیا رستے کی سنائیں کیا با حالت زار آئے بادیدۂ نم پہنچے جس چہرے کو دیکھا وہ آئینۂ دوری تھا دیوار کی صورت تھا جس در پہ قدم پہنچے کچھ لب پہ کچھ آنکھوں میں

افتاد طبیعت سے اس حال کو ہم پہنچے Read More »

تمہاری چاہت کی چاندنی سے ہر اک شب غم سنور گئی ہے

غزل تمہاری چاہت کی چاندنی سے ہر اک شب غم سنور گئی ہے سنہری پوروں سے خواب ریزے سمیٹتی ہر سحر گئی ہے مہکتے جھونکے کے حرف تسکیں میں جانی پہچانی لرزشیں تھیں تمہاری سانسوں کی آنچ کتنی قریب آ کر گزر گئی ہے اب اس کا چارہ ہی کیا کہ اپنی طلب ہی لا

تمہاری چاہت کی چاندنی سے ہر اک شب غم سنور گئی ہے Read More »

کیا سروکار اب کسی سے مجھے

غزل کیا سروکار اب کسی سے مجھے واسطہ تھا تو تھا تجھی سے مجھے بے حسی کا بھی اب نہیں احساس کیا ہوا تیری بے رخی سے مجھے موت کی آرزو بھی کر دیکھو کیا امیدیں تھیں زندگی سے مجھے پھر کسی پر نہ اعتبار آئے یوں اتارو نہ اپنے جی سے مجھے تیرا غم

کیا سروکار اب کسی سے مجھے Read More »