MOJ E SUKHAN

پیش خیمہ یہ کسی ایک مصیبت کا نہیں

غزل

پیش خیمہ یہ کسی ایک مصیبت کا نہیں
دکھ ہے کچھ اور مری جان مسافت کا نہیں

ہم مضافات سے آئے ہوئے لوگوں کا میاں
مسئلہ رزق کا ہوتا ہے محبت کا نہیں

جسم کی جیت کوئی جیت نہیں میرے لیے
یہ وہ سامان ہے جو میری ضرورت کا نہیں

تھوڑی کوشش سے ہی آ جاتی ہے اب نیند مجھے
اس کا مطلب ہے کہ وہ میری طبیعت کا نہیں

یہ تو خود چل کے نشانے پہ لگے ہیں تیرے
دخل اس میں تو کوئی تیری مہارت کا نہیں

روز دریا میں جو اک پھول بہا دیتا ہوں
یہ کسی دکھ کا اشارہ ہے عقیدت کا نہیں

ہم ہیں ہارے ہوئے لشکر کے سپاہی ساحرؔ
فائدہ ہم کو کسی کی بھی حمایت کا نہیں

جہانزیب ساحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم