MOJ E SUKHAN

بڑے خلوص سے اپنا بنا لیا تھا مجھے

غزل

بڑے خلوص سے اپنا بنا لیا تھا مجھے
تمہارے ہجر نے زندہ بچا لیا تھا مجھے

یقین جان بہت ڈر گیا تھا اس دن جب
گلے سے تو نے اچانک لگا لیا تھا مجھے

بچھڑ گئے ہیں تو سارا قصور ہے تیرا
کہ تو نے سر پہ جو اتنا چڑھا لیا تھا مجھے

میں اتنی دیر کہیں بیٹھ ہی نہیں سکتا
کسی نے ہاتھ پکڑ کر بٹھا لیا تھا مجھے

جو اس طرح سے مجھے خرچ کر رہا ہے تو
یہ چند روز میں کتنا کما لیا تھا مجھے

مجھے خوشی ہے سہولت سے اب مروں گا میں
کہ ایک بار تو اس نے بچا لیا تھا مجھے

وہ سرد شام وہ بارش وہ لاپتا یادیں
کسی نے شال میں ساحرؔ چھپا لیا تھا مجھے

جہانزیب ساحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم