MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نیند سے مجھ کو جگاتا ہے چلا جاتا ہے

غزل

نیند سے مجھ کو جگاتا ہے چلا جاتا ہے
وہ مرے خواب میں آتا ہے چلا جاتا ہے

اور میں ٹیک ہٹاتا نہیں دروازے سے
عشق آواز لگاتا ہے چلا جاتا ہے

چھیڑ وہ راگ لہو آنکھ سے نکلے دل کا
تو بھی کیا گیت سناتا ہے چلا جاتا ہے

میرا کردار کہانی میں فقط اتنا ہے
کوئی روتا ہوا آتا ہے چلا جاتا ہے

روز اول کا تھکا ہارا مسافر اک دن
بوجھ کاندھوں سے گراتا ہے چلا جاتا ہے

ایک طبقہ تو کئی نسل سے اس دنیا سے
خواب آنکھوں میں سجاتا ہے چلا جاتا ہے

تجھ کو معلوم نہیں تیری طلب کا لمحہ
کتنی صدیوں کو مٹاتا ہے چلا جاتا ہے

جس طرح سے یہ زمیں گھوم رہی ہے ساحر
بات ایسے وہ گھماتا ہے چلا جاتا ہے

جہانزیب ساحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم