MOJ E SUKHAN

افتاد طبیعت سے اس حال کو ہم پہنچے

غزل

افتاد طبیعت سے اس حال کو ہم پہنچے
شدت کی محبت میں شدت ہی کے غم پہنچے

احوال بتائیں کیا رستے کی سنائیں کیا
با حالت زار آئے بادیدۂ نم پہنچے

جس چہرے کو دیکھا وہ آئینۂ دوری تھا
دیوار کی صورت تھا جس در پہ قدم پہنچے

کچھ لب پہ کچھ آنکھوں میں لے آئے سجا کر ہم
جو رنج کہ ہاتھ آئے جو غم کہ بہم پہنچے

قطع سر شاخ نرم آغاز نموئے نو
صدمے مری چاہت کو پہنچے تو پہ کم پہنچے

وہ شاخ بنے سنورے وہ شاخ پھلے پھولے
جس شاخ پہ دھوپ آئے جس شاخ کو نم پہنچے

ضیا جالندھری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم