MOJ E SUKHAN

اے دل نشیں تلاش تری کو بہ کو نہ تھی

غزل

اے دل نشیں تلاش تری کو بہ کو نہ تھی
اپنے سے اک فرار تھا وہ جستجو نہ تھی

اظہار نارسا سہی وہ صورت جمال
آئینۂ خیال میں بھی ہو بہو نہ تھی

کیا سحر تھا کہ ہنستے ہوئے جان دے گئے
وہ بھی کہ جن کو تاب غم آرزو نہ تھی

کیا جانے اہل بزم نے کیا کیا سمجھ لیا
اخفائے آرزو تھی وہ چپ گفتگو نہ تھی

وہ کون سی سحر تھی کہ روئی نہ پھول پھول
وہ شام کون سی تھی کہ غم سے لہو نہ تھی

ہم تو فریفتہ تھے ضیاؔ دل کی آنچ پر
منظور محض دل کشیٔ رنگ و بو نہ تھی

ضیا جالندھری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم