MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نگاہوں میں یہ کیا فرما گئی ہو

غزل

نگاہوں میں یہ کیا فرما گئی ہو
مری سانسوں کے تار الجھا گئی ہو

در و دیوار میں ہے اجنبیت
میں خود بھی کھو گیا تم کیا گئی ہو

پریشاں ہو گئے تعبیر سے خواب
کہ جیسے کچھ بدل کر آ گئی ہو

تمنا انتظار دوست کے بعد
کلی جیسے کوئی مرجھا گئی ہو

یہ آنسو یہ پشیمانی کا اظہار
مجھے اک بار پھر بہکا گئی ہو

ضیاؔ وہ زندگی کیا زندگی ہے
جسے خود موت بھی ٹھکرا گئی ہو

ضیا جالندھری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم