MOJ E SUKHAN

جس طرح بہر اک قطرے قطرے میں ہے

غزل

جس طرح بہر اک قطرے قطرے میں ہے
ایک کہانی چھپی نقطے نقطے میں ہے

جب سے ہاتھوں میں میں نے اٹھایا قلم
تذکرہ بس ترا پنے پنے میں ہے

یہ ملن کی گھڑی یوں ہوئی مختصر
سمٹی جیسے صدی لمحے لمحے میں ہے

جب سے ہم راز تجھ کو ہے میں نے کیا
عام قصہ مرا کوچہ کوچہ میں ہے

کھڑکیاں تو کئی ان مکانوں میں ہے
پھر گھٹن کیوں یہاں کونے کونے میں ہے

کیوں طلب ہو تجھے ایک گھر کی حناؔ
آشیاں جب ترا ذرے ذرے میں ہے

حنا عباس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم