MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جو بھی کہنا تھا وہ ان کہا رہ گیا

غزل

جو بھی کہنا تھا وہ ان کہا رہ گیا
دل کا ارمان دل میں دبا رہ گیا

عمر بھر اس کی جانب میں چلتی رہی
پھر بھی میلوں کا یہ فاصلہ رہ گیا

یوں تو دنیا میں سب کچھ ہے مجھ کو ملا
صرف تو ہی تو مجھ سے جدا رہ گیا

اپنی کہتا رہا میری اک نا سنی
وہ خفا تھا خفا کا خفا رہ گیا

آ گیا لوٹ کر وہ مرے پاس ہی
مجھ میں پھر بھی کہیں اک خلا رہ گیا

کیا بتاؤں تمہیں اپنی تقدیر سے
کیا ملا ہے مجھے اور کیا رہ گیا

ڈھونڈتے ڈھونڈتے میں کہیں کھو گئی
وہ بھی میرے لیے لاپتہ رہ گیا

منزلیں مل گئیں جانے کس کو حناؔ
اپنی قسمت میں بس راستہ رہ گیا

حنا عباس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم