MOJ E SUKHAN

بنا سحر کے اجالے مجھے قبول نہیں

غزل

بنا سحر کے اجالے مجھے قبول نہیں
ترے یہ جھوٹے دلاسے مجھے قبول نہیں

نہ تو مداری ہے نہ میں ترا جمورا ہوں
یہ آئے دن کے تماشے مجھے قبول نہیں

بڑھا کے ہاتھ کو تم نے مجھے گرایا ہے
اگر یہی ہیں سہارے مجھے قبول نہیں

کسی کے ذہن کی جو کھڑکیاں نہ کھول سکیں
تو ایسے علم کے دعوے مجھے قبول نہیں

جو میرے دل پہ ہے گزری وہی اگر نہ کہو
تو باقی شور شرابے مجھے قبول نہیں

ہو ظلم عام جہاں پر جہاں نہ حق پہنچے
یہ بھولے بھٹکے زمانے مجھے قبول نہیں

حنا عباس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم