MOJ E SUKHAN

کھیل تھا اپنی انا کا عشق اسے سمجھا کیا

غزل

کھیل تھا اپنی انا کا عشق اسے سمجھا کیا
میں نے اپنے آپ سے کتنا بڑا دھوکا کیا

عمر بھر کا ہم نفس اک پل میں رخصت ہو گیا
اور میں خاموش اسے جاتے ہوئے دیکھا کیا

اک ذرا سی بات پر روٹھا رہا وہ دیر تک
مسکرا کے خود ہی پھر میری طرف چہرا کیا

فکر کی لذت کے باعث ہیں مری ناکامیاں
سب عمل کرتے رہے اور میں فقط سوچا کیا

زخم کی اک آگ تھی جس سے سخن روشن رکھا
درد کی اک لہر تھی میں نے جسے نغمہ کیا

سب ہی کچھ اس سے نہ کہنا تھا جو تیرے دل میں تھا
شدت اظہار میں تو نے فراستؔ کیا کیا

سید فراست رضوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم