MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

گو کسی کا پیار ہوں دستار ہوں ایمان ہوں

غزل

گو کسی کا پیار ہوں دستار ہوں ایمان ہوں
اپنے گھر میں میں مگر بے کار سا سامان ہوں

شیشہ گر تو نے نفاست سے تراشا ہے مجھے
کیا خبر تجھ کو کہ اب پتھر کا اک میدان ہوں

کوئی پڑھتا ہے مجھے شام و سحر یوں با وضو
اور کسی کے واسطے سادہ سا اک فرمان ہوں

چل رہی ہوں ہولے ہولے چاند کی مانند میں
یہ بھی سچ ہے کہکشاں کا ایک روشن دان ہوں

ہے پہننی خاک کی نکھری قبا اک دن شغفؔ
آخری دن کا ابھی سے دیکھیے سامان ہوں

پروین شغف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم