MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

حسرتیں بن کر نگاہوں سے برس جائیں گے ہم

غزل

حسرتیں بن کر نگاہوں سے برس جائیں گے ہم
ایک دن آئے گا جب ان کو بھی یاد آئیں گے ہم

چاندنی بن کر کبھی دامن پہ لہرائیں گے ہم
بن کے آنسو گاہ پلکوں پر ٹھہر جائیں گے ہم

شام کو جام مسرت بھر کے چھلکائیں گے ہم
صبح کو دور چراغ بزم بن جائیں گے ہم

پھر کہاں پائیں گے ہم کو نو عروسان چمن
جب فضائے رنگ و بو میں جذب ہو جائیں گے ہم

ٹوٹ جائے گا غرور بحر نا پیدا کنار
اس طرح بپھری ہوئی موجوں سے ٹکرائیں گے ہم

جب زمانہ خود ہی دھوکا بن گیا شوکتؔ تو پھر
کون جانے کس قدر دھوکے ابھی کھائیں گے ہم

شوکت پردیسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم