MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

حوصلے کی کمی سے ڈرتا ہوں

غزل

حوصلے کی کمی سے ڈرتا ہوں
دور کی روشنی سے ڈرتا ہوں

دیکھ کر بستیوں کی ویرانی
اب تو ہر آدمی سے ڈرتا ہوں

عقل تاروں کو چھو کے آتی ہے
اور میں چاندنی سے ڈرتا ہوں

پہلے ڈرتا تھا تیرگی سے میں
اور اب روشنی سے ڈرتا ہوں

میری بے چارگی تو یہ بھی ہے
آپ کی دوستی سے ڈرتا ہوں

یہ بھی اک پھانس بن نہ جائے کہیں
غم کی آسودگی سے ڈرتا ہوں

تیری زلفوں کی چھاؤں میں رہ کر
آنے والی خوشی سے ڈرتا ہوں

تم تو ترک وفا بھی کر لو گے
اور میں اس گھڑی سے ڈرتا ہوں

بے غرض کون ہے کہ اے شوکتؔ
میں یہ کہہ دوں اسی سے ڈرتا ہوں

شوکت پردیسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم