MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

صرف ان کے کوچے میں جاں بچھا کے چلتے ہیں

غزل

صرف ان کے کوچے میں جاں بچھا کے چلتے ہیں
ورنہ چاہنے والے سر اٹھا کے چلتے ہیں

کیا گنہ ہوا ان سے کیوں تری گلی کے لوگ
اپنے گھر کے اندر بھی منہ چھپا کے چلتے ہیں

ہاں خدا بھی ہو شاید کوئی اپنی بستی کا
حکم اس جگہ سارے ناخدا کے چلتے ہیں

زخم بھی نہیں لگتے خون بھی نہیں بہتا
تیر اس کی محفل میں کس بلا کے چلتے ہیں

شام کو انہیں اخترؔ گلستاں میں دیکھیں گے
جب وہ اپنی زلفوں میں دل سجا کے چلتے ہیں

سعید احمد اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم