MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بت کیا ہیں بشر کیا ہے یہ سب سلسلہ کیا ہے

غزل

بت کیا ہیں بشر کیا ہے یہ سب سلسلہ کیا ہے
پھر میں ہوں مرا دل ہے مری غار حرا ہے

جو آنکھوں کے آگے ہے یقیں ہے کہ گماں ہے
جو آنکھوں سے اوجھل ہے خلا ہے کہ خدا ہے

تارے مری قسمت ہیں کہ جلتے ہوئے پتھر
دنیا مری جنت ہے کہ شیطاں کی سزا ہے

دل دشمن جاں ہے تو خرد قاتل ایماں
یہ کیسی بلاؤں کو مجھے سونپ دیا ہے

سنتے رہیں آرام سے ہر جھوٹ تو خوش ہیں
اور ٹوک دیں بھولے سے تو کہتے ہیں برا ہے

شیطان بھی رہتا ہے مرے دل میں خدا بھی
اب آپ کہیں دل کی صدا کس کی صدا ہے

اخترؔ نہ کرو ان سے گلا جور و جفا کا
اپنی بھی خدا جانے ہوس ہے کہ وفا ہے

سعید احمد اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم