MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ حادثہ بھی تو کچھ کم نہ تھا صبا کے لیے

غزل

یہ حادثہ بھی تو کچھ کم نہ تھا صبا کے لیے
گلوں نے کس لیے بوسے تری قبا کے لیے

وہاں زمین پر ان کا قدم نہیں پڑتا
یہاں ترستے ہیں ہم لوگ نقش پا کے لیے

تم اپنی زلف بکھیرو کہ آسماں کو بھی
بہانہ چاہئے محشر کے التوا کے لیے

یہ کس نے پیار کی شمعوں کو بد دعا دی ہے
اجاڑ راہوں میں جلتی رہیں سدا کے لیے

ابھی تو آگ سے صحرا پڑے ہیں رستے میں
یہ ٹھنڈکیں ہیں فسانے کی ابتدا کے لیے

سلگ رہا ہے چمن میں بہار کا موسم
کسی حسین کو آواز دو خدا کے لیے

سعید احمد اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم