MOJ E SUKHAN

جب انکی بزم سے أٹھ أٹھ کے لوگ جانے لگے

غزل

جب انکی بزم سے أٹھ أٹھ کے لوگ جانے لگے
تو جا کے ہوش ذرا ان کے کچھ ٹھکانے لگے

چراغِ عشق جو اپنا جلا نہ پائے کبھی
تو دوسروں کے دیے نفرتاً بجھانے لگے

وہ جن کو ہم نے ہی پہنچایا انکی منزل تک
عجیب ہیں وہ، ہمیں راستہ بتانے لگے

ہمارے زندوں سے خائف تو پہلے ہی تھے وہ
اور اب گڑے ہوئے مردوں سے خوف کھانے لگے

زبانِ اُردو سے نفرت ہے اُنکو کس درجہ
یہ بات اُردو میں ہی بول کر بتانے لگے

جو آدمی کے بھی زمرے میں آ نہیں سکتے
بہت سے لوگ انھیں دیوتا بنانے لگے

ضرورتوں نے انھیں کیسا کر دیا پاگل
جہاں پہ دل نہیں جھکتا تھا سر جھکا نے لگے

وہ جن کے چہرے بہت داغدار ہیں نصرت
وہی ہمارے لیے آئینے بنانے لگے

نصرت عتیق گورکھپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم