غزل
جب انکی بزم سے أٹھ أٹھ کے لوگ جانے لگے
تو جا کے ہوش ذرا ان کے کچھ ٹھکانے لگے
چراغِ عشق جو اپنا جلا نہ پائے کبھی
تو دوسروں کے دیے نفرتاً بجھانے لگے
وہ جن کو ہم نے ہی پہنچایا انکی منزل تک
عجیب ہیں وہ، ہمیں راستہ بتانے لگے
ہمارے زندوں سے خائف تو پہلے ہی تھے وہ
اور اب گڑے ہوئے مردوں سے خوف کھانے لگے
زبانِ اُردو سے نفرت ہے اُنکو کس درجہ
یہ بات اُردو میں ہی بول کر بتانے لگے
جو آدمی کے بھی زمرے میں آ نہیں سکتے
بہت سے لوگ انھیں دیوتا بنانے لگے
ضرورتوں نے انھیں کیسا کر دیا پاگل
جہاں پہ دل نہیں جھکتا تھا سر جھکا نے لگے
وہ جن کے چہرے بہت داغدار ہیں نصرت
وہی ہمارے لیے آئینے بنانے لگے
نصرت عتیق گورکھپوری