MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

عارض اشکوں سے ترے تر نہیں دیکھے جاتے

غزل

عارض اشکوں سے ترے تر نہیں دیکھے جاتے
خاک میں رلتے یہ گوہر نہیں دیکھے جاتے

دیکھ سکتا ہوں زمانے کی بدلتی نظریں
تیرے بدلے ہوئے تیور نہیں دیکھے جاتے

آئنہ بھی رخ روشن کے مقابل نہ رہے
ہم سے کوئی ترے ہمسر نہیں دیکھے جاتے

دل کے ساگر میں جو ہر شام و سحر اٹھتے ہیں
وہ تلاطم کبھی باہر نہیں دیکھے جاتے

مسکراتے ہوئے چہرے پہ نظر سب کی پڑی
زخم دل کے مگر اکثر نہیں دیکھے جاتے

حسن کے جلوے جو دیکھے ترے دیوانے نے
ہوش والوں سے وہ اکثر نہیں دیکھے جاتے

قدر کر قدر مرے ذوق نظر کی ساقی
سب حسیں یوں تو مکرر نہیں دیکھے جاتے

میکدہ اپنا ہے اور بادہ و ساقی اپنے
غیر کے ہاتھ میں ساغر نہیں دیکھے جاتے

یہ حسیں وادی و دریا گل و گلزار حبیبؔ
بن ترے مجھ سے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے

جے کرشن چودھری حبیب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم