MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

شبدوں کی مدھیرا سے بھگو کر تری چولی

غزل

شبدوں کی مدھیرا سے بھگو کر تری چولی
کھیلی ہے سہیلی ترے سنجوگ میں ہولی

در آئے دراڑوں کبھی دیواروں سے پالا
برسات میں ٹپکے ہے مرا گھر مری کھولی

خوشبو کو اٹھا کر رکھا دامان دعا میں
سورج کی کرن روح کے پردے میں پرو لی

طوطے نے کہا کون تھا دریا پہ بتا دے
موئی ہے کہاں جا کے تو مینا مجھے بولی

اس آس کا اس پیاس کا دارو نہیں کوئی
دیا ری کنہیا سے کہو لائے نہ ڈولی

تو بھینسیں چرائے کہ کہیں تخت سہائے
یہ آن جند جان ترے نام پہ گھولی

صحرا میں ملا خاک کا ادراک بدن پر
کہسار پہ تا‌‌ ماس کی بو باس سے دھو لی

سو بار لٹا چینا بہے بن ترے نینا
اشکوں سے بھری دیکھی ہے سو بار یہ جھولی

رگ‌‌ وید میں اشلوک ہیں یا لوک سنائیں
بادل گھرے موسم پھرے پستک جہاں پھولی

مقتل سے گزر کر جو بڑھے شاخ سناں تک
یہ زیست تجھے دیکھ کے اس راہ پہ ہو لی

ناصر شہزاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم