MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دل پہ تھی ثبت جو تحریر مٹائی نہ گئی

غزل

دل پہ تھی ثبت جو تحریر مٹائی نہ گئی
کس کی تصویر تھی تصویر بھلائی نہ گئی

آ کے اس بن میں ملے پھر نہ کبھی دو پریمی
گھاس پگڈنڈیوں سے جھیل سے کائی نہ گئی

پیار کی آنچ سے جل اٹھا کنول کانت بدن
اس سے صورت مری نینوں میں چھپائی نہ گئی

مجھ میں رچ بس کے بھی تو مجھ سے الگ خود سے الگ
تیرے جیون کی امٹ روپ اکائی نہ گئی

ٹوٹے کتبوں کے سوا مل نہ سکا کچھ بھی مگر
اس مٹے شہر کے ٹیلوں کی کھدائی نہ گئی

رات بھر جل پہ گریں جلتے ستاروں کی لویں
مجھ سے چادر کوئی ندی پہ بچھائی نہ گئی

اس کے درشن سے ملی مجھ کو خود اپنی پہچان
شکل اک روح تلک صورت آئینہ گئی

ناصر شہزاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم