MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جذبۂ دل کو عمل میں کبھی لاؤ تو سہی

غزل

جذبۂ دل کو عمل میں کبھی لاؤ تو سہی
اپنی منزل کی طرف پاؤں بڑھاؤ تو سہی

زندگی وہ جو حریف غم ایام رہے
دل شکستہ ہے تو کیا ساز اٹھاؤ تو سہی

جاگ اٹھے گی یہ سوئی ہوئی دنیا لیکن
پہلے خوابیدہ تمنا کو جگاؤ تو سہی

پھول ہی پھول ہیں کہتے ہو جنہیں تم کانٹے
میری دنیاے جنوں میں کبھی آؤ تو سہی

تمہیں آباد نظر آئے گی اجڑی دنیا
دل کی دنیا کو محبت سے بساؤ تو سہی

زندگی پھر سے جواں پھر سے حسیں ہو جائے
ان کی آنکھوں سے ذرا آنکھ ملاؤ تو سہی

کرتے پھرتے ہو اندھیرے کی شکایت درشنؔ
دل کی دنیا میں کوئی دیپ جلاؤ تو سہی

درشن سنگھ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم