MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

لباس فقر میں ہم کو جو خاکسار ملے

غزل

لباس فقر میں ہم کو جو خاکسار ملے
انہیں کے در پہ سلاطین روزگار ملے

وہ راز جس سے سلگتا رہا ہے دل کہہ دیں
ہمارے دل سا اگر کوئی رازدار ملے

شراب خانۂ چشتی میں بھی نظر آئے
ہمیں جو الفت نانک کے بادہ خوار ملے

غم جہاں نگری کا سفر قیامت تھا
ہر ایک ذرے کے سینے میں کوہسار ملے

کوئی بھی دورئ منزل نہیں اگر درشنؔ
جہاں کو میرا جنون خرد شکار ملے

درشن سنگھ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم