MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بے رخی نے اس کی کیسا یہ اشارا کر دیا

غزل

بے رخی نے اس کی کیسا یہ اشارا کر دیا
وقت سے پہلے قیامت کا نظارا کر دیا

لاکھ کہنے پر بھی اس نے رخ پہ رکھا تھا نقاب
اک جھلک کی آرزو کو ناگوارا کر دیا

چل پڑے دامن جھٹک کر ہم کو پیچھے چھوڑ کر
تنہا آغاز سفر پر کیوں دوبارہ کر دیا

خود ہی لو امید کی اس نے جگائی اور پھر
توڑ کر امید خود ہی بے کنارہ کر دیا

کیسی بے دردی سے توڑا اس نے ناطہ پیار کا
کیوں جہاں میں پھر صباؔ کو بے سہارا کر دیا

ببلس ھورہ صبا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم