MOJ E SUKHAN

بے قراری دل مضطر کی بڑھائی ہم نے

غزل

بے قراری دل مضطر کی بڑھائی ہم نے
آج پھر تم سے کوئی آس لگائی ہم نے

مشکلیں راہ وفا میں بھی بنائیں آساں
رسم الفت تو بہ ہر طور نبھائی ہم نے

شاید آ جاؤ کسی روز کبھی لوٹ کے تم
بس اسی آس میں ہر راہ سجائی ہم نے

تم کبھی تھے نہ ہمارے نہ کبھی ہو گے صنم
یہ سمجھنے میں بہت دیر لگائی ہم نے

ہائے دلکش وہ ادائیں وہ دل آویز نظر
جن میں الجھے رہے اور عمر گنوائی ہم نے

کوئی شکوہ نہ شکایت نہ گلہ ہے تم سے
اپنے ہی ہاتھ سے ہستی بھی مٹائی ہم نے

رہنے والے ہیں صباؔ عرش بریں کے وہ تو
کہکشاں پھر بھی سر فرش بچھائی ہم نے

ببلس ھورہ صبا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم