MOJ E SUKHAN

چاند کا قرض سارا شگفتہ

چاند کا قرض

ہمارے آنسوؤں کی آنکھیں بنائی گئیں

ہم نے اپنے اپنے تلاطم سے رسہ کشی کی
اور اپنا اپنا بین ہوئے

ستاروں کی پکار آسمان سے زیادہ زمین سنتی ہے
میں نے موت کے بال کھولے

اور جھوٹ پہ دراز ہوئی
نیند آنکھوں کے کنچے کھیلتی رہی

شام دوغلے رنگ سہتی رہی
آسمانوں پہ میرا چاند قرض ہے

میں موت کے ہاتھ میں ایک چراغ ہوں
جنم کے پہیے پر موت کی رتھ دیکھ رہی ہوں

زمینوں میں میرا انسان دفن ہے
سجدوں سے سر اٹھا لو

موت میری گود میں ایک بچہ چھوڑ گئی ہے

 

سارا شگفتہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم