MOJ E SUKHAN

گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے

غزل

گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے
خوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے

کس کو سناؤں حسرت اظہار کا گلہ
دل فرد جمع و خرچ زباں ہائے لال ہے

کس پردہ میں ہے آئنہ پرداز اے خدا
رحمت کہ عذر خواہ لب بے سوال ہے

ہے ہے خدا نخواستہ وہ اور دشمنی
اے شوق منفعل یہ تجھے کیا خیال ہے

مشکیں لباس کعبہ علی کے قدم سے جان
ناف زمین ہے نہ کہ ناف غزال ہے

وحشت پہ میری عرصۂ آفاق تنگ تھا
دریا زمین کو عرق انفعال ہے

ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسدؔ
عالم تمام حلقۂ دام خیال ہے

پہلو تہی نہ کر غم و اندوہ سے اسدؔ
دل وقف درد کر کہ فقیروں کا مال ہے

مرزا غالب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم