MOJ E SUKHAN

موت کی تلاشی مت لو سارا شگفتہ

موت کی تلاشی مت لو
سارا شگفتہ

بادلوں میں ہی میری تو بارش مر گئی

ابھی ابھی بہت خوش لباس تھا وہ
میری خطا کر بیٹھا

کوئی جائے تو چلی جاؤں
کوئی آئے تو رخصت ہو جاؤں

میرے ہاتھوں میں کوئی دل مر گیا ہے
موت کی تلاشی مت لو

انسان سے پہلے موت زندہ تھی
ٹوٹنے والے زمین پر رہ گئے

میں پیڑ سے گرا سایہ ہوں
آواز سے پہلے گھٹ نہیں سکتی

میری آنکھوں میں کوئی دل مر گیا ہے۔۔۔

 

سارا شگفتہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم