خموش کیوں ہیں نظاروں کو دیکھنے والے
غزل خموش کیوں ہیں نظاروں کو دیکھنے والے بہک نہ جائیں اشاروں کو دیکھنے والے نگاہ دل کی طرف بھی کبھی اٹھائی ہے بہ یک نگاہ ہزاروں کو دیکھنے والے نگاہ کوئی خزاں کے لئے بھی ہے کہ نہیں چمن میں صرف بہاروں کو دیکھنے والے بڑھائے جاؤ قدم اپنا جانب منزل بہت ہیں راہ […]
خموش کیوں ہیں نظاروں کو دیکھنے والے Read More »