MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

خموش کیوں ہیں نظاروں کو دیکھنے والے

غزل خموش کیوں ہیں نظاروں کو دیکھنے والے بہک نہ جائیں اشاروں کو دیکھنے والے نگاہ دل کی طرف بھی کبھی اٹھائی ہے بہ یک نگاہ ہزاروں کو دیکھنے والے نگاہ کوئی خزاں کے لئے بھی ہے کہ نہیں چمن میں صرف بہاروں کو دیکھنے والے بڑھائے جاؤ قدم اپنا جانب منزل بہت ہیں راہ […]

خموش کیوں ہیں نظاروں کو دیکھنے والے Read More »

لے آئی اس مقام پہ اب گمرہی مجھے

غزل لے آئی اس مقام پہ اب گمرہی مجھے منزل نے بڑھ کے آپ ہی آواز دی مجھے یہ بات عمر بھر کا سکوں دے گئی مجھے بھولے سے اس نے یاد کیا تھا کبھی مجھے یا رب ترے کرم کی کوئی انتہا نہیں دامن کو اپنے دیکھ کے شرم آ گئی مجھے منزل پہ

لے آئی اس مقام پہ اب گمرہی مجھے Read More »

محبتوں کا عذاب میں نے غموں کی صورت چکا دیا ہے

غزل محبتوں کا عذاب میں نے غموں کی صورت چکا دیا ہے نہ چھیڑ مجھ کو اے میرے دشمن کہ میں نے خود کو مٹا دیا ہے ادائے دل میں گلوں کی خوشبو مہک رہی ہے عذاب بن کر یہ دل کا سودا کیا ہے تو نے کہ دل کو مجنوں بنا دیا ہے تڑپ

محبتوں کا عذاب میں نے غموں کی صورت چکا دیا ہے Read More »

حادثے زیست کے اس دل میں جو گھر کرتے ہیں

غزل حادثے زیست کے اس دل میں جو گھر کرتے ہیں دشت آغوش میں وہ عمر بسر کرتے ہیں میرے حصے میں محبت نہیں لکھی لیکن میری آنکھوں میں کئی خواب سفر کرتے ہیں اس لیے خود کو مٹانا بھی ضروری سمجھا غم زمانے کے مرے دل پہ اثر کرتے ہیں اب تو بنتا ہی

حادثے زیست کے اس دل میں جو گھر کرتے ہیں Read More »

میری چشم نم میں رواں دواں مری زندگی کا عذاب تھا

غزل میری چشم نم میں رواں دواں مری زندگی کا عذاب تھا جسے دیکھتے ہی میں مر گئی وہی عکس محو سراب تھا مری عمر رفتہ کی خیر ہو کہ ترے بغیر گزر گئی جہاں سانس لینا محال تھا جہاں رنج خانہ خراب تھا وہی سرخ لب وہی آئنہ وہی دشت دشت سی زندگی مرے

میری چشم نم میں رواں دواں مری زندگی کا عذاب تھا Read More »

سبھی قصہ کہانی کا برا انجام ہوتا ہے

غزل سبھی قصہ کہانی کا برا انجام ہوتا ہے محبت چھوٹ جائے تو محبت نام ہوتا ہے زمانے بھر کی رسوائی اٹھا لیتا ہے کندھے پر بتاؤ اس طرح بھی دل کہیں بدنام ہوتا ہے وہ میرا حال کیا جانے ہے میرا حال جانے کیا میں بالکل مطمئن ہوں یہ محض الزام ہوتا ہے محبت

سبھی قصہ کہانی کا برا انجام ہوتا ہے Read More »

مرے تصور میں آ رہے ہو

غزل مرے تصور میں آ رہے ہو مجھے نشانہ بنا رہے ہو ابھی کہانی سنی نہیں ہے خیال اپنا سجا رہے ہو فراق میں جو گزر گئے دن اسی میں دل کو جلا رہے ہو محبتوں میں وصال لازم مجھے کہانی سنا رہے ہو میں پہلے نادان تھی مری جاں ابھی بھی پاگل بنا رہے

مرے تصور میں آ رہے ہو Read More »

فرش سے عرش پہ آواز لگائی میں نے

غزل فرش سے عرش پہ آواز لگائی میں نے داستاں درد کی ہر گام سنائی میں نے خامشی درد کے عنوان سے تحریر ہوئی زیست کو دار و رسن تک دی رسائی میں نے تیز بارش سے در و بام مہک اٹھے تھے حالت عشق میں جب دھوم مچائی میں نے میں نے قرطاس پہ

فرش سے عرش پہ آواز لگائی میں نے Read More »

کون کس کا عذاب ہوتا ہے

غزل کون کس کا عذاب ہوتا ہے سب کا اپنا حساب ہوتا ہے روگ لگتا ہے جن کے سینے کو ان کا آنسو گلاب ہوتا ہے تم نے روکا ہو جس قدر اس کو عشق تو بے حساب ہوتا ہے حسن چھپتا نہیں چھپانے سے کچھ تو لازم حجاب ہوتا ہے جو سمجھتے نہیں مری

کون کس کا عذاب ہوتا ہے Read More »

دل محبت سے بھر نہ جائے کہیں

غزل دل محبت سے بھر نہ جائے کہیں تو بھی یک دم مکر نہ جائے کہیں تھام لیتی ہوں خود کو پل پل میں دل یہ اشکوں سے بھر نہ جائے کہیں میں زمانے سے تھک چکی یارو اب یہ میری نظر نہ جائے کہیں آنے والے خزاں کے موسم میں ہار تنہا شجر نہ

دل محبت سے بھر نہ جائے کہیں Read More »