MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خموش کیوں ہیں نظاروں کو دیکھنے والے

غزل

خموش کیوں ہیں نظاروں کو دیکھنے والے
بہک نہ جائیں اشاروں کو دیکھنے والے

نگاہ دل کی طرف بھی کبھی اٹھائی ہے
بہ یک نگاہ ہزاروں کو دیکھنے والے

نگاہ کوئی خزاں کے لئے بھی ہے کہ نہیں
چمن میں صرف بہاروں کو دیکھنے والے

بڑھائے جاؤ قدم اپنا جانب منزل
بہت ہیں راہ گزاروں کو دیکھنے والے

زمیں پہ رہ کے زمیں کا کوئی خیال نہیں
فلک پہ چاند ستاروں کو دیکھنے والے

یہ کیوں جھجھک سے رہے ہیں یہ کیوں ٹھٹک سے گئے
گلوں کے سائے میں خاروں کو دیکھنے والے

سفینہ شورش طوفاں کی نذر ہو جاتا
نہ ڈوبتے جو کناروں کو دیکھنے والے

یہی ہے وقت کہ رخ موڑ دیں ہواؤں کا
کہاں ہیں وقت کے دھاروں کو دیکھنے والے

ہیں چند لوگ ابھی میکدے میں اے ساقی
تری نظر کے اشاروں کو دیکھنے والے

جو میری آنکھ سے گر کر ہے زینت دامن
اسے بھی دیکھ ستاروں کو دیکھنے والے

جو بڑھ گئے وہی منزل نصیب تھے میکشؔ
پڑے ہوئے ہیں سہاروں کو دیکھنے والے

استاد عظمت حسین خان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم