MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

زندگی تو نے عجب بات یہ بتلائی ہے

غزل زندگی تو نے عجب بات یہ بتلائی ہے اک قیامت ہے بپا شہر میں رسوائی ہے خلوت جان میں گزری ہے مری عمر رواں آپ کہتے ہیں کہ بے نام سزا پائی ہے آپ کو حال بتاؤں تو بتاؤں کیسے آپ کے شہر میں ہر شخص تماشائی ہے ایک دن کیف کے عالم میں […]

زندگی تو نے عجب بات یہ بتلائی ہے Read More »

جب بہایا ہی نہیں آنکھ سے پانی میں نے

غزل جب بہایا ہی نہیں آنکھ سے پانی میں نے ایک ہی لفظ میں لکھ دی ہے کہانی میں نے ضبط طوفان کا ٹوٹا نہ کبھی سینے میں روک رکھی ہے سمندر کی روانی میں نے شبد بے خوف کتابوں میں اتارے میں نے پھر کتابوں پہ جمی خاک بھی چھانی میں نے مجھ کو

جب بہایا ہی نہیں آنکھ سے پانی میں نے Read More »

بنا منزل کے رستوں کا سفر اپنا رہا ہے

غزل بنا منزل کے رستوں کا سفر اپنا رہا ہے مرے دل میں وہ یک طرفہ محبت لا رہا ہے نہیں یہ جانتا نادانیاں اپنی ہیں اس کی بڑا بے چین سا دل ہے جو اس پر آ رہا ہے نہیں رکتا ہے روکے سے بڑا معصوم دل ہے اسے اپنا بنانے پر تلا ہی

بنا منزل کے رستوں کا سفر اپنا رہا ہے Read More »

مرا تو وقت گھر سے کوچ ہی کا ہے

غزل مرا تو وقت گھر سے کوچ ہی کا ہے سوال سارے گھر کی زندگی کا ہے یہاں تو دوستی نبھے نہ دشمنی زمیں ہے جس کی آسماں اسی کا ہے ترس نہ جائے رقص و رم کو بھی کہیں وہ دشت جس پہ سایہ آدمی کا ہے جو دن نہ گزرے وہ بھی دن

مرا تو وقت گھر سے کوچ ہی کا ہے Read More »

لب طلب بھی نہ پھر مائل سوال ہوا

غزل لب طلب بھی نہ پھر مائل سوال ہوا کہ جب تقدس کشکول پائمال ہوا عجیب قحط خیال و خبر سے گزرے ہم کسی نے حال بھی پوچھا تو جی بحال ہوا ملے بہ سعیٔ رفو اور اٹھے گریباں چاک یہ مشورہ ہوا لوگو کہ اشتعال ہوا وہ جال پھیلے ہوا میں کہ پر کشاؤں

لب طلب بھی نہ پھر مائل سوال ہوا Read More »

کسی تھکن کو سخن بنا لوں یہی بہت ہے

غزل کسی تھکن کو سخن بنا لوں یہی بہت ہے میں چند فرصت کے پل بچا لوں یہی بہت ہے ہنر کا حق تو ہوا کی بستی میں کون دے گا ادھر میں اپنا دیا جلا لوں یہی بہت ہے یہ ہجر کے زخم بھی بڑے لالہ کار دل ہیں میں گھر کے رنگوں سے

کسی تھکن کو سخن بنا لوں یہی بہت ہے Read More »

اب جلد یہ بے آبیٔ موسم کی بلا جائے

غزل اب جلد یہ بے آبیٔ موسم کی بلا جائے اشجار کی فریاد سے سیلاب نہ آ جائے اتنا بھی لہو کو نہ جنوں خیز کیا جائے پھوٹے رگ گل سے تو رگ سنگ میں آ جائے بارش ہے تو ایسی کہ لرز جائے زمیں بھی پانی ہے کہ مٹی کو بھی تلوار بنا جائے

اب جلد یہ بے آبیٔ موسم کی بلا جائے Read More »