MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

حادثے زیست کے اس دل میں جو گھر کرتے ہیں

غزل

حادثے زیست کے اس دل میں جو گھر کرتے ہیں
دشت آغوش میں وہ عمر بسر کرتے ہیں

میرے حصے میں محبت نہیں لکھی لیکن
میری آنکھوں میں کئی خواب سفر کرتے ہیں

اس لیے خود کو مٹانا بھی ضروری سمجھا
غم زمانے کے مرے دل پہ اثر کرتے ہیں

اب تو بنتا ہی نہیں تیرا پرایوں سے گلہ
حال بے حال یہاں اپنے اگر کرتے ہیں

اس لیے توڑ کے بیٹھی ہوں تعلق دل سے
اب کہاں لوگ محبت کی قدر کرتے ہیں

مان جاتی ہوں میں ہر بات من و عن اس کی
اس قدر فہم و فراست سے خبر کرتے ہیں

تو نے دیکھا ہی نہیں دل میں خزانوں کو عمودؔ
ان میں کچھ سانپ ہیں جو سب پہ نظر کرتے ہیں

عمود ابرار احمد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم