MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

زندگی تو نے عجب بات یہ بتلائی ہے

غزل

زندگی تو نے عجب بات یہ بتلائی ہے
اک قیامت ہے بپا شہر میں رسوائی ہے

خلوت جان میں گزری ہے مری عمر رواں
آپ کہتے ہیں کہ بے نام سزا پائی ہے

آپ کو حال بتاؤں تو بتاؤں کیسے
آپ کے شہر میں ہر شخص تماشائی ہے

ایک دن کیف کے عالم میں پکارا اس نے
یہ وہی دشت ہے جس دشت میں تنہائی ہے

نہ تمنا نہ تماشا نہ کوئی آہ بھری
پھر بھی آنکھوں میں مرے درد کی گہرائی ہے

غم ہزاروں تھے کہ اک اور محبت کر لی
ایک رسوا کو ملی مفت میں رسوائی ہے

میری دنیا میں خموشی کے علاوہ نہیں کچھ
آخری وقت میں یہ بات سمجھ آئی ہے

اس نے جکڑا ہے مجھے کانٹوں کے بستر سے عمودؔ
پھر تبسم بھرے ہونٹوں سے قسم کھائی ہے

عمود ابرار احمد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم