MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بنا منزل کے رستوں کا سفر اپنا رہا ہے

غزل

بنا منزل کے رستوں کا سفر اپنا رہا ہے
مرے دل میں وہ یک طرفہ محبت لا رہا ہے

نہیں یہ جانتا نادانیاں اپنی ہیں اس کی
بڑا بے چین سا دل ہے جو اس پر آ رہا ہے

نہیں رکتا ہے روکے سے بڑا معصوم دل ہے
اسے اپنا بنانے پر تلا ہی جا رہا ہے

غم فرقت کا اندازہ لگا سکتا نہیں وہ
تغافل میں کئی موجوں سے جو ٹکرا رہا ہے

کہ جب دیکھا زمانے میں عجب عالم یہ دیکھا
جسے دیکھا وہ حسرت میں مرا ہی جا رہا ہے

عمود ابرار احمد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم