غزل
بنا منزل کے رستوں کا سفر اپنا رہا ہے
مرے دل میں وہ یک طرفہ محبت لا رہا ہے
نہیں یہ جانتا نادانیاں اپنی ہیں اس کی
بڑا بے چین سا دل ہے جو اس پر آ رہا ہے
نہیں رکتا ہے روکے سے بڑا معصوم دل ہے
اسے اپنا بنانے پر تلا ہی جا رہا ہے
غم فرقت کا اندازہ لگا سکتا نہیں وہ
تغافل میں کئی موجوں سے جو ٹکرا رہا ہے
کہ جب دیکھا زمانے میں عجب عالم یہ دیکھا
جسے دیکھا وہ حسرت میں مرا ہی جا رہا ہے
عمود ابرار احمد