MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جب بہایا ہی نہیں آنکھ سے پانی میں نے

غزل

جب بہایا ہی نہیں آنکھ سے پانی میں نے
ایک ہی لفظ میں لکھ دی ہے کہانی میں نے

ضبط طوفان کا ٹوٹا نہ کبھی سینے میں
روک رکھی ہے سمندر کی روانی میں نے

شبد بے خوف کتابوں میں اتارے میں نے
پھر کتابوں پہ جمی خاک بھی چھانی میں نے

مجھ کو وجدان تھا سیلاب نے تو آنا ہے
دیکھ لی خواب میں اس شام نشانی میں نے

آرزوؤں نے مرے دل میں تباہی کر دی
پھر کسی چاہ کی امید نہ ٹھانی میں نے

تو نے سمجھا تھا مجھے آج بھی پاگل ہوں وہی
عادتیں چھوڑ دیں جتنی تھی پرانی میں نے

کیا بتاؤں میں اسے عمر گریزاں سے عمودؔ
سیکھ لی دشت میں اب خاک اڑانی میں نے

عمود ابرار احمد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم