غزل
جب بہایا ہی نہیں آنکھ سے پانی میں نے
ایک ہی لفظ میں لکھ دی ہے کہانی میں نے
ضبط طوفان کا ٹوٹا نہ کبھی سینے میں
روک رکھی ہے سمندر کی روانی میں نے
شبد بے خوف کتابوں میں اتارے میں نے
پھر کتابوں پہ جمی خاک بھی چھانی میں نے
مجھ کو وجدان تھا سیلاب نے تو آنا ہے
دیکھ لی خواب میں اس شام نشانی میں نے
آرزوؤں نے مرے دل میں تباہی کر دی
پھر کسی چاہ کی امید نہ ٹھانی میں نے
تو نے سمجھا تھا مجھے آج بھی پاگل ہوں وہی
عادتیں چھوڑ دیں جتنی تھی پرانی میں نے
کیا بتاؤں میں اسے عمر گریزاں سے عمودؔ
سیکھ لی دشت میں اب خاک اڑانی میں نے
عمود ابرار احمد