MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دنیا میں دل لگا کے بہت سوچتے رہے

غزل دنیا میں دل لگا کے بہت سوچتے رہے کانٹوں کو گدگدا کے بہت سوچتے رہے کل صبح ایک شاخ یہ دو ادھ کھلا گلاب تھوڑا سا مسکرا کے بہت سوچتے رہے کیا جانے چاندنی نے ستاروں سے کیا کہا شب بھر وہ سر جھکا کے بہت سوچتے رہے ٹوٹا کہیں جو شاخ سے غنچہ […]

دنیا میں دل لگا کے بہت سوچتے رہے Read More »

کسی نے با وفا سمجھا کسی نے بے وفا سمجھا

غزل کسی نے با وفا سمجھا کسی نے بے وفا سمجھا مجھے غیروں نے کیا سمجھا مجھے اپنوں نے کیا سمجھا غم پیہم ہوئی ثابت جسے میں نے بقا سمجھا حیات جاوداں نکلی جسے میں نے قضا سمجھا غلط سمجھا زمانے میں تجھے درد آشنا سمجھا مری نظروں کا دھوکا تھا میں پتھر کو خدا

کسی نے با وفا سمجھا کسی نے بے وفا سمجھا Read More »

نوائے ساز بنتا جا رہا ہوں

غزل نوائے ساز بنتا جا رہا ہوں بس اک آواز بنتا جا رہا ہوں رفیق اب کوئی بھی میرا نہیں ہے میں خود دم ساز بنتا جا رہا ہوں زمانہ جو بھی کروٹ لے رہا ہو وہی انداز بنتا جا رہا ہوں مزاج وقت کو سمجھا ہے جب سے زمانہ ساز بنتا جا رہا ہوں

نوائے ساز بنتا جا رہا ہوں Read More »

غزلیں بھی بہت لکھیں اور گیت بہت گائے

غزل غزلیں بھی بہت لکھیں اور گیت بہت گائے ہم شعر کی عظمت کو لیکن نہ پہنچ پائے کچھ ایسا انوکھا بھی انداز نہ تھا اپنا کچھ لوگ مگر پھر بھی ہم کو نہ سمجھ پائے ہم دل کی امیری سے اس درجہ تونگر تھے جو خاک ملی ہم کو ہم سونا بنا لائے مٹی

غزلیں بھی بہت لکھیں اور گیت بہت گائے Read More »

بکھر بکھر کے جو سمٹی وہ کائنات ہوں میں

غزل بکھر بکھر کے جو سمٹی وہ کائنات ہوں میں مرا ثبات یہی ہے کہ بے ثبات ہوں میں خدا تو بھول گیا کب کا خلق کر کے مجھے سحر بھی چھوڑ گئی جس کو ایسی رات ہوں میں مرے نفس میں ہے پنہاں جو میرا خالق ہے ورق ورق جو مکمل ہے وہ کتاب

بکھر بکھر کے جو سمٹی وہ کائنات ہوں میں Read More »

جدھر سے تیر چلا کوئی مہرباں نکلا

غزل جدھر سے تیر چلا کوئی مہرباں نکلا توقعات سے بڑھ کر وہ میزباں نکلا ثمر سے پہلے شجر کاٹ کر جلا ڈالے کہ جلدباز بہت اب کے باغباں نکلا عجیب رنگ ہوا اب کے میری نگری کا کہ جو بھی شہر میں نکلا وہ بے اماں نکلا یہ کس عذاب نے بستی کو میری

جدھر سے تیر چلا کوئی مہرباں نکلا Read More »

کیا زمانے سے توقع رکھیں اچھائی کی

غزل کیا زمانے سے توقع رکھیں اچھائی کی یہ تو دنیا ہے نہ اپنوں کی نہ ہرجائی کی جب سے دنیا نے مشینوں سے شناسائی کی سب کی آنکھوں میں تھکن دیکھی ہے تنہائی کی اک پڑاؤ ہے گھڑی دو گھڑی دم لینے کو وہ گرفتار ہوا جس نے شناسائی کی منصب و جبہ و

کیا زمانے سے توقع رکھیں اچھائی کی Read More »

سوال یہ ہے سبب کس سے قتل کا پوچھیں

غزل سوال یہ ہے سبب کس سے قتل کا پوچھیں کہ جس نے قتل کیا وہ ہی بے زباں نکلا امیر شہر تو لفظوں کے جال بنتا ہے مگر جو سچ تھا وہ فقروں کے درمیاں نکلا ہمارے بعد بھی کیا زیب دار ہوگا کوئی یہی سوال مرا زیب داستاں نکلا ہم اپنی عقل کو

سوال یہ ہے سبب کس سے قتل کا پوچھیں Read More »

جو دکھ دیے تھے کبھی تم کو آزمانے کو

غزل جو دکھ دیے تھے کبھی تم کو آزمانے کو وہ تیر بن کے پلٹ آئے سب نشانے کو تمہارا ساتھ نہ ہوتا تو بے اماں ہوتے تمہاری چھاؤں ضروری تھی آشیانے کو نہیں ہے خوف کہ نیچا دکھائے گی دنیا جو ساتھ تم رہو جاناں مجھے اٹھانے کو جو میں نے اپنی ہی گدڑی

جو دکھ دیے تھے کبھی تم کو آزمانے کو Read More »

بہت تھکان بدن میں مرے سفر کی رہی

غزل بہت تھکان بدن میں مرے سفر کی رہی مگر وہ شوق کی منزل کہ ہر نگر کی رہی وہ جس پہ چل کے سدا پاؤں زخم زخم ہوئے نہ جانے کھوج ہمیں کیوں اسی ڈگر کی رہی جو میری ذات کی پنہائیاں سمجھ لیتی تمام عمر ضرورت اسی نظر کی رہی جب اپنے آپ

بہت تھکان بدن میں مرے سفر کی رہی Read More »