MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کسی نے با وفا سمجھا کسی نے بے وفا سمجھا

غزل

کسی نے با وفا سمجھا کسی نے بے وفا سمجھا
مجھے غیروں نے کیا سمجھا مجھے اپنوں نے کیا سمجھا

غم پیہم ہوئی ثابت جسے میں نے بقا سمجھا
حیات جاوداں نکلی جسے میں نے قضا سمجھا

غلط سمجھا زمانے میں تجھے درد آشنا سمجھا
مری نظروں کا دھوکا تھا میں پتھر کو خدا سمجھا

وفا کی راہ میں کھائے ہیں ایسے بھی کبھی دھوکے
وہ ظالم ابتدا نکلی جسے میں انتہا سمجھا

اسے دل کا جنوں کہئے کہ میری سادگی کہئے
میں ہر اک رہ گزر کو آج اس کا نقش پا سمجھا

بہت ممکن تھا موجوں سے مری کشتی نکل آتی
مگر وہ راہزن نکلا جسے میں ناخدا سمجھا

رہ الفت میں ایسے بھی کنولؔ اکثر مقام آئے
جہاں ہر دل کی دھڑکن کو میں اپنی ہی صدا سمجھا

ڈی راج کنول

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم