MOJ E SUKHAN

تیری قربت میں گر نہیں آتے

غزل

تیری قربت میں گر نہیں آتے
آگہی کے ہنر نہیں آتے

آپ اک بار ہم سے کہہ دیتے
ہم کبھی یوں ادھر نہیں اتے

کوئ تو زخم بھی دیا ہوگا
بے سبب اشک بھر نہیں آتے

زخم پر زخم لگ رہے ہیں مجھے
اور پتھر نظر نہیں آتے

قدر کرتا اگر جہاں فن کی
اوج پر بے ہنر نہیں آتے

روز کرتے ہیں مجھ سے گھر کی بات
اور روزانہ گھر نہیں آتے

اپنی عمران آستیں دیکھو
جابہ جا ہیں نظر نہیں آتے

احمد عمران اویسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم