MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ایسا نہیں کہ میں ہی سحر ڈھونڈتا رہا

غزل

ایسا نہیں کہ میں ہی سحر ڈھونڈتا رہا
ہر شخص بادلوں میں قمر ڈھونڈتا رہا

خود کو دیار یار میں ڈھونڈا گلی گلی
لیکن ملی نہ کوئ خبر ڈھونڈتا رہا

دیکھا جو ہر طرف تو انا کے ہی بت ملے
کوئ ملا نہ مجھ کو بشر ڈھونڈتا رہا

ملتی کہاں سے مجھ کو محبت کی روشنی
تاریکیوں میں شمس وقمر ڈھونڈتا رہا

یارانِ حیلہ ساز ہیں اطراف میں مرے
مہر و وفا ہے کھوئ کدھر ڈھونڈتا رہا

اس نے تمام زخم مرے نام کردئیے
جس کے لئے نوید سحر ڈھونڈتا رہا

دستار فیض لے کے کھڑا تھا فصیل پر
مجھ کو ملا نہ کوئی بھی سر ڈھونڈتا رہا

ہو جائے سب کے واسطے آسودہ یہ حیات
عمران عمر بھر وہ ہنر ڈھونڈتا رہا

احمد عمران اویسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم