MOJ E SUKHAN

ابھی نہ جاؤ ابھی راستے سجے بھی نہیں

غزل

ابھی نہ جاؤ ابھی راستے سجے بھی نہیں
ابھی چراغ سر کہکشاں جلے بھی نہیں

جبین چرخ پہ گلگونۂ شفق مل کر
ابھی تو شام کے سائے کہیں گئے بھی نہیں

ابھی ابھی تو جمائی ہے میں نے بزم خیال
ابھی افق بہ افق بام و در سجے بھی نہیں

عروس شب نے ابھی چاندنی اتاری ہے
ابھی تو گیسوئے شب ٹھیک سے کھلے بھی نہیں

ابھی سے ترک تعلق کے مشورے تو نہ دو
ابھی تو یادوں کے سارے دیے بجھے بھی نہیں

مرے سفر میں ستارے تھے بس شریک سفر
یہ راہ رو تو مری رہگزر کے تھے بھی نہیں

حنیف اسعدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم