MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جلے ہیں دل نہ چراغوں نے روشنی کی ہے

غزل جلے ہیں دل نہ چراغوں نے روشنی کی ہے وہ شب پرستوں نے محفل میں تیرگی کی ہے حدیث ظلم و ستم ہے ہنوز نا گفتہ ہنوز مہر زبانوں پہ خامشی کی ہے اس ایک جام نے ساقی کی جو عطا ٹھہرا سکوں دیا ہے نہ کچھ درد میں کمی کی ہے ہمیں یہ […]

جلے ہیں دل نہ چراغوں نے روشنی کی ہے Read More »

بھاگتے سورج کو پیچھے چھوڑ کر جائیں گے ہم

غزل بھاگتے سورج کو پیچھے چھوڑ کر جائیں گے ہم شام کے ہوتے ہی واپس اپنے گھر جائیں گے ہم کاٹنے کو ایک شب ٹھہرے ہیں تیرے شہر میں کیا بتائیں صبح ہوگی تو کدھر جائیں گے ہم دھوپ میں پھولوں سا مرجھا بھی گئے تو کیا ہوا شہر سے ہونٹوں کے پیمانے تو بھر

بھاگتے سورج کو پیچھے چھوڑ کر جائیں گے ہم Read More »

جسے بھی دیکھیے پیاسا دکھائی دیتا ہے

غزل جسے بھی دیکھیے پیاسا دکھائی دیتا ہے کوئی مقام ہو صحرا دکھائی دیتا ہے نہ جانے کون ہے وہ وقت شام جو اکثر گلی کے موڑ پہ بیٹھا دکھائی دیتا ہے جو چاندنی میں نہاتے ہوئے بھی ڈرتا تھا وہ جسم دھوپ میں جلتا دکھائی دیتا ہے پہنچ رہی ہے جہاں تک نگاہ سڑکوں

جسے بھی دیکھیے پیاسا دکھائی دیتا ہے Read More »

محسوس ہو رہا ہے جو غم میری ذات کا

غزل محسوس ہو رہا ہے جو غم میری ذات کا سچ پوچھیے تو درد ہے وہ کائنات کا گھر کی گھٹن سے دور نکل جائے آدمی سڑکوں پہ خوف ہو نہ اگر حادثات کا اپنے بدن کو اور تھکاؤ نہ دوستو ڈھل جائے دن تو بوجھ اٹھانا ہے رات کا اک دوسرے کو زہر پلاتے

محسوس ہو رہا ہے جو غم میری ذات کا Read More »

کب بیاباں راہ میں آیا یہ سمجھا ہی نہیں

غزل کب بیاباں راہ میں آیا یہ سمجھا ہی نہیں چلتے رہنے کے سوا دھیان اور کچھ تھا ہی نہیں کرب منزل کا ہو کیا احساس ان اشجار کو جن کے سائے میں مسافر کوئی ٹھہرا ہی نہیں کس کو بتلاتے کہ آئے ہیں کہاں سے کون ہیں ہم فقیروں کا کسی نے حال پوچھا

کب بیاباں راہ میں آیا یہ سمجھا ہی نہیں Read More »

کھڑا تھا کون کہاں کچھ پتا چلا ہی نہیں

غزل کھڑا تھا کون کہاں کچھ پتا چلا ہی نہیں میں راستے میں کسی موڑ پر رکا ہی نہیں ہوائیں تیز تھیں اتنی کہ ایک دل کے سوا کوئی چراغ سر رہ گزر جلا ہی نہیں کہاں سے خنجر و شمشیر آزماتا میں مرے عدو سے مرا سامنا ہوا ہی نہیں دکھوں کی آگ میں

کھڑا تھا کون کہاں کچھ پتا چلا ہی نہیں Read More »

روشنی ہی روشنی ہے شہر میں

غزل روشنی ہی روشنی ہے شہر میں پھر بھی گویا تیرگی ہے شہر میں روز و شب کے شور و غل کے باوجود اک طرح کی خامشی ہے شہر میں ریل کی پٹری پہ سو جاتے ہیں لوگ کتنی آساں خود کشی ہے شہر میں جو عمارت ہے وہ سر سے پاؤں تک اشتہاروں سے

روشنی ہی روشنی ہے شہر میں Read More »

آگ ہی کاش لگ گئی ہوتی

غزل آگ ہی کاش لگ گئی ہوتی دو گھڑی کو تو روشنی ہوتی لوگ ملتے نہ جو نقابوں میں کوئی صورت نہ اجنبی ہوتی پوچھتے جس سے اپنا نام ایسی شہر میں ایک تو گلی ہوتی بات کوئی کہاں خوشی کی تھی دل کو کس بات کی خوشی ہوتی موت جب تیرے اختیار میں ہے

آگ ہی کاش لگ گئی ہوتی Read More »

مجھ کو نہیں معلوم کہ وہ کون ہے کیا ہے

غزل مجھ کو نہیں معلوم کہ وہ کون ہے کیا ہے جو سائے کے مانند مرے ساتھ لگا ہے اک اور بھی ہے جسم مرے جسم کے اندر اک اور بھی چہرہ مرے چہرے میں چھپا ہے مہتاب تو آئے گا نہ سیڑھی سے اتر کر دیوانہ کس امید پہ رستے میں کھڑا ہے ملنے

مجھ کو نہیں معلوم کہ وہ کون ہے کیا ہے Read More »

ایک پری کی زلفوں میں یوں پھنسا ہوا ہے چاند

غزل ایک پری کی زلفوں میں یوں پھنسا ہوا ہے چاند ہم کو لگتا ہے بادل میں چھپا ہوا ہے چاند پہلی شام نظر آیا تھا بالکل ایسا جیسے ناخن چودہ دن میں دیکھو کتنا بڑا ہوا ہے چاند اس نے پیڑ سے کود کے جانے کتنے غوطے کھائے بندر کو جب لگا ندی میں

ایک پری کی زلفوں میں یوں پھنسا ہوا ہے چاند Read More »